Zayda Shoor Karny wala Insaan mashkook bhi ho sakta hay


Image by Jason Goh from Pixabay
برطانیہ اور فرانس کے درمیان چلنے والی ایک ریل جو برطانیہ جا رہی تھی، اس میں مسافروں کی گنجائش کے مطابق تعداد پوری ہوچکی تھی، سوائے ایک نشست کے جو خالی رہ گئی تھی. دو افراد کے لیے مختص نشستوں پر ایک پر پہلے سے فرانسیسی خاتون براجمان تھی، اتفاق سے ریل گاڑی کی روانگی سے چند لمحے قبل ایک انگریز شخص ریل میں سوار ہوا اور اس خالی نشست پر فرانسیسی خاتون کے برابر میں بیٹھ گیا۔

فرانسیسی خاتون کے چہرے پر گہری تشویش کے سائے لہرا رہے تھے، وہ اپنی حرکات و سکنات سے
مضطرب دکھائی دے رہی تھی، جب اس کے چہرے پر شدید تناؤ نمودار ہوا تو انگریز شخص سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھا، آپ کیوں اتنی پریشان ہیں ؟

اس خاتون نے کہا کہ ہچکچاتے ہوئے کہا "میرے پاس برطانیہ قانون کے مطابق مجاز رقم سے زیادہ رقم ہے ، جو 10,000 برطانوی پاؤنڈ بنتے ہیں. فرانس میں اتنی رقم رکھنا جرم نہیں ہے مگر برطانیہ میں تو یہ جرم ہے، نجانے وہاں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟"
انگریز کہنے لگا، یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اتفاق سے میرے پاس چند سو پاؤنڈ ہیں، اگر آپ راضی ہوں تو، آپ رقم کو اس طرح تقسیم کریں کہ آدھی یعنی 5000 پاؤنڈ مجھے دے دیں، اور بقیہ آپ کے پاس رہیں گے، بالفرض اگر پولیس ہم دونوں میں سے کسی ایک کو گرفتار کر لے، تو پھر بھی نصف رقم بچ جائے گی. آپ اپنا لندن اور فرانس کا پتہ مجھے لکھ دیں تاکہ صورتحال کے مطابق آپ کو آپ کی امانت واپس کر دوں۔ فرانسیسی خاتون نے نے اسے اپنے گھر کا مکمل پتہ لکھ کر دے دیا۔
ریل سے اتر کر فرانسیسی خاتون پولیس کی تفشیشی رکاوٹوں کے درمیان سے بغیر کسی رکاوٹ کے تقریباً گزر ہی چکی تھی کہ، انگریز شخص پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے چیخا، "جناب ، اس عورت کو پکڑیں، یہ دس ہزار پاؤنڈ غیر قانونی طور پر لے کر جارہی ہے، اس رقم میں سے آدھی رقم میرے پاس ہے اور باقی آدھی اس کے پاس، میں برطانیہ کا محب وطن شہری ہوں، اور میں اپنے ملک کے ساتھ غداری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا. میں نے جان بوجھ کر اس کے ساتھ تعاون کیا تاکہ عظیم برطانیہ سے میری حب الوطنی ثابت ہو سکے۔
پولیس نے عورت کو پکڑ لیا، اور جب دوبارہ معائنہ کیا تو اس کے پاس سے رقم برآمد ہوگئی، اور اس نے برطانوی شہری کے الزامات کی بھی تصدیق کردی، بعد ازاں برآمد ہوئی رقم کو ضبط کر لیا گیا۔ انگریز شخص نے بھی اپنے پاس رکھے ہوئے پانچ ہزار پاؤنڈ نکال کر پولیس کے حوالے کردیئے.
پولیس افسران نے منی لانڈرنگ سے قومی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس شخص کا شکریہ ادا کیا، اور اس کے جذبہ حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا.
پولیس حکام نے خاتون کو دوسری ریل کے ذریعے واپس فرانس روانہ کر دیا۔
چند دن گزرے تو فرانسیسی خاتون نے دروازے پر دستک کے جواب میں جب دروازہ کھولا تو اسی انگریز شخص کو دروازے کے سامنے کھڑا پایا، حیرانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس نے انگریز سے کہا کہ تم کتنے جھوٹے اور مکار شخص ہو جس نے دھوکے کے ساتھ میری رقم پولیس کو برآمد کروا دی، اور دیکھو تم کتنے بے شرم بھی ہو کہ ایک بار پھر میرے سامنے ڈھٹائی سے کھڑے ہو.
انگریز نے اس فرانسیسی خاتون کی کسی بھی ترش بات کا جواب دینے کی بجائے، اسے ایک لفافہ تھمایا جس میں 15000 پاؤنڈ تھے۔اور سپاٹ لہجے میں کہنے لگا، یہ آپ کی رقم اور ساتھ میری طرف سے انعام بھی ہے.
فرانسیسی عورت اس کی بات سن کر حیران رہ گئی کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
انگریز نے کہا، "میم، آپ کا غصہ بجا ہے، لیکن اس وقت میں پولیس کی توجہ اپنے بیگ سے ہٹانا چاہتا تھا، جس میں تین ملین پاؤنڈ تھے، مجھے اس لیے یہ چال چلنی پڑی اور آپ کے دس ہزار پاؤنڈ جاتے رہے، جو میرے لیے ذرا بھی مہنگا سودا نہیں تھا......

کبھی کبھی چیخ چیخ کر حب الوطنی، قانون کی پاسداری اور غیرت کا دعویٰ کرنے والا شخص درحقیقت چور بھی ہوسکتا ہے.

انگریزی اور عربی مخلوط بلاگ کا اردو ترجمہ

SHAJAAT

No comments:

Post a Comment